۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ ایک مرتبہ تھانہ بھون تشریف لے گئے ساتھ ایک شیعہ بھی تھا امیر شریعت ؒ نے بطور تعارف فرمایا حضرت یہ شیعہ تو ہے پر صحابہ کرام پے تبراء نہیں کرتا حضرت نے برجستہ ارشاد فرمایا اپ کے فرمانے کا مطلب ہے کتا تو ہے پر بھونکتا نہیں ہے ۔ حضرت قاضی مظہر حسین صاحب ؒ اپنی مایہ ناز تصنیف کشف خارجیت میں اپنے والدماجد قاضی کرم الدین دبیر ؒ کا ایک واقعہ لکھتے ہیں کہ ایک پروگرام میں حضرت امیرشریعت ؒ بھی مدعو تھے جب قاضی صاحب کا بیان شروع ہوا امیر شریعت تشریف لے آئے قاضی صاحب نے رافضیت کے باطل عقائد پے گفتگوکی ۔ گفتگو کے بعد امیر شریعت نے فرمای جب کرم الدین بیان فرما رہے تھے مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے کوئی میرے دماغ پے ہتھوڑے برسا رہاہے کہ جن لوگوں کو اپ نے ساتھ ملایا ہے ان کے یہ یہ عقائد ہیں۔1953 کی تحریک ختم نبوت کی ناکامی کے بعد شیخ العرب والعجم سید حسین احمد مدنی ؒ نے امیر شریعت کو پیغام کو بھیجا کہ میں نے استخارہ کیا ہے کہ تحریک کی ناکامی کی وجہ کیا بنی تو میرے استخارے میں شیعہ سے اتحاد نکلا ۔ حضرت امیر شریعت نے ارشاد فرمایا حضرت میں خنزیر کے شکار کے لیے نکلا تو کتوں کو ساتھ ملا لیا مولانا حکیم ارشاد دیوبندی ظاہر پیر رحیم یار خان والے موجود تھے تو انھوں نے عرض کی حضرت جس نے ایک نبی مانا تو خنزیر اور جس نے بارہ مانے وہ کتا ؟ حضرت امیر شریعت نے مولانا ارشاد کی یہ بات سن کر فرمایا اپ سرگودھا جائیں مجلس احرار کے خرچہ پے اور امام پاکستان مولانا احمد شاہ بخاری ؒ سے شیعت پڑھ کر آئیں ۔ یہ رافضیت کے عقائد ونظریات سے عدم واقفیت کی وجہ کیوں تھی اس کا جواب بھی امام اہلسنت حضرت شیخ سرفراز خانصاحب صفدر کی زبانی پڑھ لیں ۔ ارشاد الشیعہ میں حضرت لکھتے ہیں ۔ شیعہ کے عقائد سے عدم واقفیت کی ایک وجہ تو تقیہ تھا دوسری یہ کہ انکا سارا ڈھانچہ مذہبی طور پے ہم سےالگ تھا کبھی کسی مسئلہ میں نہ تو ان کی کتب کی طرف رجوع کی نوبت آتی نہ ہی ان کی کتب امہات کی دستیاب آسان تھی اور یہی بات مختلف پیرایہ میں امام اہلسنت حضرت علامہ عبدالشکور لکھنوی ؒ نے لکھی ہے۔ خمینی انقلاب کے بعد کے بعد جب خمینی نے بڑے پیمانےپے کتب تشیع کی اشاعت کی اور پھر انقلاب کو دیگر ممالک میں پھیلانے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے اور نتائج سے بے پرواء ہوکر اپنے نظریات ببانگ دھل پھیلائے تو پھر علماء اہلسنت نے اس فتنہ کا تعاقب شروع کیا ۔ حضرت ابوالحسن علی ندوی کی دو متضاد تصویریں ۔ حضرت مولانا منظور احمد نعمانی کی ایرانی انقلاب ۔ اور خمینی اثناء عشریہ کے بارے علماء کرام کا متفقہ فیصلہ ۔ مولانا نعمانی ؒ کی کاوش پے دارالعلوم دیوبند کا اثناء عشریہ کو ختم نبوت کا منکر قرار دینا۔ مہتمم دالعلوم دیوبند حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی کا خمینت عصر حاضر کا عظیم فتنہ نامی کتاب لکھنا۔ اور پھر پاکستان کے علماء بشمول خواجہ خواجگان حضرت خواجہ خان محمد ؒ ۔ مولانا ولی حسن ٹونکی۔ قاضی مظہر حسین ۔خلیفہ مجاز شیخ العرب والعجم کی متفقہ فیصلہ کی تائید ۔ اور شہید اسلام مولانا یوسف لدھیانوی شہید ؒ کی اس فتوی کی بھرپور تائید اور اپنے ادارے سے اشاعت ۔ اور مورخ اسلام علامہ ضیاء الرحمن فاروقی کی تاریخی دستاویز ۔اسلام میں صحابہ ؓ کرام کی آئینی حثیت ۔ تعلیمات آلؓ رسول ؐ ۔ اس کے ساتھ ساتھ امیر عزیمت اور اپ کے جملہ رفقاء کی تاریخی علمی سیاسی آئینی وقانونی جدوجہد ۔ یہ سب کچھ بتاتا ہے امت محمدیہ کے بیدار مغز راہنماٶں نے کس طرح اور کس انداز سے اس فتنہ باطلہ کا تعاقب کیا اور اپنی جان پے کھیل کر امت کے ایمان کی حفاظت کی ۔ اور دور تقیہ ونفاق میں اور کتب کی عدم دستیابی اور اپنے عقائد ونظریات میں کتمان کے باوجود جب بھی انہی ان کے عقائد بارے کچھ کہیں سے معلوم ہوا تو سب چیزوں کو بالائے طاق رکھ کر کیسے اظہار برات فرمایا ۔ المیہ یہ ہے کہ اب جب اس طبقہ کی اسلام ملک دشمنی واضح ہوچکی ہے اور حقیقت عیاں ۔ کچھ افراد سیاست کے نام پے اس طبقہ کی حثیت جو مسلمہ طور پے کفریہ رہی ہے اہلسنت کے تمام طبقات کے ہاں ان کی حثیت ومقام کو نہ صرف مشکوک بنا رہے ہیں کہ انہیں اسلامی دینی مذہبی چھتری عطاء کر رہے ہیں ۔ ہمیں شیعت سے اتحاد پے اعتراض نہیں بلکہ ان کو دی جانے والی حثیت پے اعتراض ہے ۔ اگر جمعیت کے ذمہ داران اج یہ کہ دیں کہ ہمارے نزدیک شیعہ کافر ہے اورہم اسے کافر ہی تسلیم کرتے ہیں اور ان کی اسی حثیت کا لحاظ کرتے ہوئے اتحاد کررہے ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا ۔ مسئلہ تب بنتا ہے جب اسمبلی کے فلور پے مسلم کمیونٹی کہا جاتاہے ۔ خالد سومرو شہید ایک بیان میں اپنی جماعت کا موقف بیان کرتے ہوئے اس طبقہ کو مسلمانوں کا گمراہ طبقہ کہتے ہیں ایک سابق سینٹر حمداللہ صاحب ایمان قرآن کلمہ تک ایک کہتے ہیں۔ شیرانی صاحب انکی اقتداء میں نماز ادا کرتے ہیں اور خمینی جیسے بدبخت کی قبر پے فاتحہ پڑھتے ہیں ۔ راشد سومرو جیسا راہنماء اس کے مقتولین کی دعائے مغفرت کرتاہے اور تعزیتیں کرتا ہے۔ اور اس طرح مولوی زکریا فیصل آبادی امیر جمعیت علماء فرزند مولانا جاوید حسین شاہ مقامی علماء تاجران کے فیصلے کے برخلاف ایک غیر قانونی ایمان بگاڑے کی تعمیر کی ذمہ داری لیتا ہے ۔تو پھر سوالات تو اٹھتے ہیں اگر امیر شریعت ؒ عقائد سے کماحقہ عدم واقفیت کے باوجود کتا کہ سکتے ہیں ۔تو یہ کیوں نہیں ؟ کیا مفادات ایمان پے اس درجے غالب آچکےہیں کہ احقاق حق جیسا فریضہ ادا کرتے ہوئے زبان پے تالے لگ جاتے ہیں کیا ہوس اقتدار الفت اقدار پے اس قدر حاوی ہوچکی ہے آخر اس درجہ شیعیت نوازی کی وجہ کیا ہے ؟؟؟؟؟؟ ۔
No comments:
Post a Comment