Monday, 12 June 2017

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حالات فضائل اور کارنامے

ام،والدکانام ۔عبدمناف۔ والدہ کانام فاطمہ بنت اسد۔کنیت ابوالحسن اور ابوتراب۔لقب ۔حیدر۔اسداللہ۔المرتضی۔پیدائش آپ ﷺ کی ولادت سے 30سال بعد اس کے علاؤہ بھی دوقول ہیں۔حلیہ۔قد درمیانہ۔رنگ گندم گون۔آنکھیں بڑی۔چہرہ پر گوشت۔سینہ کشادہ۔۔۔عادات۔۔۔غذا اور لباس میں سادگی۔دشمنوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے تھے۔علم نحوکے بانی۔اچھے اشعار کہ لیتے تھے۔خطابت میں مہارت حاصل تھی۔مقدمات کے فیصلے کرنے میں اپنی مثال آپ تھے۔بیویاں۔فاطمۃ الزہراء۔،اسماء بنت عمیس۔امامہ بنت ابی العاص۔لیلی بنت مسعود۔اولاد۔مؤرخین چودہ صاحبزادوں اورسولہ صاحبزادیوں کاتذکرہ کیا ہے انمیں چندایک کے نام یہ ہیں۔حضرت حسن ۔حسین۔محسن۔یحیی ۔مھمدالاوسط۔عبیداللہ ابوبکر۔عثمان۔ عمر۔۔۔بھائی ۔طالب۔ عقیل۔ جعفر۔ بہنیں۔ام ہانی۔ جمانتہ۔ قبول اسلام۔آپ نے دس سال کی عمر میں اسلام قبول کیا۔آپ ﷺ کی ہجرت کے وقت آپ کو آنحضرت صلعم کے بستر پر سونے کا اعزاز میسر آیا۔آپ نے آپ صلعم کی ہجرت کے تسرے دن ہجرت فرمائی اور قباءمیں آپ صلعم سے جاملے۔ قبا میں اپ کاقیام کلثوم بن الہدم کے مکان میں قیام پذیر ہوے۔ آپ کا بھائی مدینہ میں سہیل بن حنیف کو بنایا گیا۔اکثر غزوات میں آپ نے بڑھ چڑھ کرحصہ لیا اور خوب داد شجاعت دی۔فتح مکہ کے موقع پر اپ نے حضور صلعم کے حکم سے الحویرث بن النقید کوقتل کیا،،حضور صلعم کے مرض وفات میں آپ نے تیماداری میں بھرپور حصہ لیا،،ابوبکر صدیق کے دور خلافت میں فتنہ ارتدادکو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ خمس کے اموال کی تقسیم کے متولی بھی تھے،،اور مشاورتی مجلس کے اہم رکن بھی۔دور عثمانی میں حدود جاری کرنے کے معاملات آپ کے سپرد تھے،اور شوری کے رکن بھی تھے۔حضرت عثمان کی مظلومانہ شہادت کے بعد آپ خلیفہ منتخب کرلیاگیا،،،مفسدوں اور باغیوں کی شرانگیز کی وجہ جمل وصفین جیسے روح فرسا حادثات پیش آئے،،،تحکیم کے بعد یہ باغی شعبان38 ہجری کونہروان کے مقام پر جمع ہوئے۔حضرت علی کے لشکر کے ساتھ انکی شدید لڑائی ہوئی،جس مین ان خارجیوں کو شدید نقصان اٹھانا پڑا،،اس کے بعد حرم شریف میں تین باغی اکھٹے ہوئے،،برک بن عبداللہ نے امیر معاویہ ،،عمروبن بکر نے عمر بن عاص،،عبدالرھمن بن ملجم نے علی المرتضی کوشہید کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور 17 رمضان کا وقت متعین ہوا،،اس کے بعد ابن ملجم کوفہ پہنچا حضرت علی صبح کی نماز کے لئے مسجد جارہے تھے،اس نے تلور سر پر زور سے دے ماری جو سر میں گہری چلی گئی،،آپ خون سے تر بتر ہو گئے آپ کے حکم سے جعدہ بن ہیرہ نے نماز پرھائی ،،،تین دن بعد آپ نے 63سال کی عمر میں شہادت پائی،،حضرات حسنین اورعبداللہ بن جعفر طیار نے ضسل اور کفن پہنایا،حضرت حسن نے جنازہ پڑھایا،،کوفہ کی مسجد الجماعۃ کے قریب الرحبہ کے مقام پر نماز فجر سے پہلے دفن کردیا گیارضی اللہ عنہ ورضوعنہ،،،،،(تدفین کی جگہ کے بارئے میں اور بھی اقوال ہیں واللہ اعلم )

No comments:

Post a Comment